امریکا اور افغان طالبان 22 فروری سے تشدد میں کمی کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت 7دن تک پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان وسیع تر معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار کرے گا، جس پر گزشتہ سال دونوں فریقوں کا اتفاق ہوا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک طالبان ذریعے نے بتایا کہ تشدد میں کمی کے معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز 22 فروری سے ہوگا۔ وسیع تر معاہدے پر 29 فروری کو دستخط متوقع ہیں۔
اس کے بعد 30 مارچ کو افغان قومی امن مذاکرات کے آغاز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار کے مطابق تشدد میں کمی کا سمجھوتا مکمل سیز فائر نہیں ہے۔ اس کا اطلاق صرف امریکا اور طالبان پر نہیں بلکہ افغان حکومت پر بھی ہوگا۔
معاہدے کے الفاظ بہت واضح ہیں جن میں سڑک کنارے بم دھماکے، خودکش حملے اور راکٹ حملے کے الفاظ بھی شامل ہیں۔
جنگ نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…