اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے باوجود کل جمعہ کو50 ہزار فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی نمازیوں کی مسجد اقصیٰ آمد کا سلسلہ جمعہ کو علی الصباح ہی شروع ہوگیا تھا۔اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے مسجد اقصیٰ کے اطراف میں تعینات کی گئی تھی۔
قابض فوج نے پرانے بیت المقدس اور اطراف میں بڑی تعداد میں فوج اور پولیس نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں آنے سے روکنے کی کوشش کی۔ فلسطینی شہریوں کی پکڑ دھکڑ کے ساتھ ساتھ انہیں قبلہ اول آنے سے روکنے کے لیے ان کی شناخت پریڈ کی گئی۔
دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے امام نے قبلہ اول میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ مسجد اقصیٰ تاریخ کے خطرناک اور فیصلہ کن موڑ سے گذر رہی ہے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کےنماازیوں پر اسرائیلی عدالتوں کی طرف سے پابندیوں کےنفاذ کی مذمت کی اور کہا کہ قبلہ اول صہیونی عدالتوں سے بالا تر ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…