اسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کے باوجود کل جمعہ کو50 ہزار فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی نمازیوں کی مسجد اقصیٰ آمد کا سلسلہ جمعہ کو علی الصباح ہی شروع ہوگیا تھا۔اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے مسجد اقصیٰ کے اطراف میں تعینات کی گئی تھی۔
قابض فوج نے پرانے بیت المقدس اور اطراف میں بڑی تعداد میں فوج اور پولیس نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں آنے سے روکنے کی کوشش کی۔ فلسطینی شہریوں کی پکڑ دھکڑ کے ساتھ ساتھ انہیں قبلہ اول آنے سے روکنے کے لیے ان کی شناخت پریڈ کی گئی۔
دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے امام نے قبلہ اول میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ مسجد اقصیٰ تاریخ کے خطرناک اور فیصلہ کن موڑ سے گذر رہی ہے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کےنماازیوں پر اسرائیلی عدالتوں کی طرف سے پابندیوں کےنفاذ کی مذمت کی اور کہا کہ قبلہ اول صہیونی عدالتوں سے بالا تر ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان