French special intervention police officers of Research Assistance Intervention Dissuasion unit, RAID, are seen near a building where the chief suspect in an al-Qaida-linked killing spree is holed up in an apartment in Toulouse, France Thursday March 22, 2012. Mohamed Merah, the chief suspect in the shooting of three Jewish schoolchildren, a rabbi, and three French paratroopers in three separate incidents, has stopped communicating with authorities and may have committed suicide, the interior minister said Thursday, as a standoff between the gunman and hundreds of police entered a second day.(AP Photo/Remy de la Mauviniere)
جرمنی کی پولیس نے سیاستدانوں، پناہ کے خواہشمند اور مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ کے خلاف ملک بھر میں جاری تفتیش کے نتیجے میں اپنے افسران سمیت 12 افراد کو گرفتار کرلیا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں وزارت داخلہ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ گرفتاریاں جرمنی کی 6 ریاستوں میں 13 مقامات پر مسلح اسپیشل یونٹس کی جانب سے چھاپوں کے نتیجے میں عمل میں آئیں۔
فیڈرل پراسیکیوٹر کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار شدہ افراد میں ’4 مرکزی ملزمان اب تک غیر واضح طور پر سیاستدانوں، پناہ کے طلبگار اور مسلمان کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملے کر کے خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کرنا چاہتے تھے‘۔
بیان کے مطابق دیگر 8 ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ’گروہ کی مالی معاونت، ہتھیار فراہم کرنے اور مستقبل میں ہونے والے حملوں میں شمولیت اختیار کرنے پر اتفاق کیا تھا‘۔
اس ضمن میں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ 12 افراد میں شامل ایک پولیس افسر کو انتہائی دائیں بازو کے گروہ سے تعلق کے الزام میں پہلے معطل کیا گیا تھا تاہم یہ بات واضح نہیں کہ وہ مرکزی ملزمان میں شامل ہے کہ نہیں۔
تفتیش کاروں کو یقین ہے کہ ستمبر 2019 میں اپنے قیام کے بعد سے اس گروہ کا مقصد ’ریاست اور جرمنی کے سماجی نظام کو تہہ و بالا کرنا اور آخر میں اسے ختم کرنا تھا‘۔
ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے گروہ مبینہ طور پر باقاعدہ ملاقاتیں کرتا تھا جس کا انتظام اور تعاون وارنر ایس اور ٹونی ای نامی 2 مرکزی ملزمان کرتے تھے۔
مذکورہ تمام ملزمان جرمن شہری ہیں جو میسینجر ایپلیکیشن کے ذریعے رابطے کرتے تھے۔
تفتیش کاروں نے اس بات کا تعین کرنے کے لیے جمعے کو چھاپے مار کارروائیاں کیں کہ کہیں ملزمان پہلے ہی ہتھیار تو حاصل نہیں کرچکے جنہیں حملوں میں استعمال کیا جائے۔
گرفتار کیے گئے تمام 12 ملزمان کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کے ریمانڈ یا جیل بھیجنے کا فیصلہ ہوگا۔
خیال رہے کہ جرمن حکام نے گزشتہ برس جون میں قدامت پسند مقامی سیاستدان کے قتل اور ایسٹرن سٹی ہال میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد ملک میں انڈر گراؤنڈ دائیں بازو کے انتہا پسندوں پر توجہ میں اضافہ کردیا تھا۔
مذکورہ بالا دونوں واقعات میں گرفتار ہونے والے ملزمان انتہائی دایئں بازو سے تعلق رکھتے تھے۔
اسپائیجیل میگزین کے مطابق گزشتہ روز پولیس نے چھاپوں میں متعدد ہتھیار بھی برآمد کیے جس میں ایک خود ساختہ ’سلیم گن‘ بھی شامل تھی جو یہودی عبادت گاہ پر حملے میں ہونے والے ہتھیار سے ملتی جلتی تھی۔
گزشتہ برس دسمبر میں وزیر داخلہ ہارسٹ شیفر نے فیڈرل پولیس اور مقامی سیکیورٹی سروس میں 600 نئی آسامیوں کا اعلان کیا تھا تاکہ انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی تک پہنچا جاسکے جو بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
اس سے قبل وفاقی پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے انتہائی دائیں بازو کے 48 افراد کی نشاندہی ’خطرناک‘ کے طور پر کی ہے جو حملے کرسکتے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…