جامعہ ملیہ اسلامیہ میں متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف طلبہ وطالبات پر امن احتجاج کرررہے تھے جن پر پولس نے پہلے آنس گیس کا استعمال کیا اس کے بعد کیمپس میں داخل کر ہوکر طلبہ پر لاٹھی چارج کیا
پولس کی فائرنگ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم محمد شاکر کی موت ہوگئی ہے جبکہ درجنوں طلبہ شدید زخمی ہیں وہیںاس کے علاوہ ایک اور طالبہ عائشہ کی حالت بہت نازک بتائی جارہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پولس نے اندھا دھند فائرنگ کی جس میں تقریبا پچاس سے زائد طلبہ کو گولی لگی ہے ،کئی طلبہ کے سینے پر گولی لگی ہے ، راجستھان کے کوٹہ سے تعلق رکھنے والے شاکر کی موت ہوچکی ہے اور عائشہ کی حالت بہت زیادہ نازک ہے ۔ آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی وجہ سے تقریبا تین سو طلبہ شدید زخمی ہیں ۔ ملت ٹائمز کو ملی اطلاع کے مطابق سبھی زخمی طلبہ صفدر جنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف طلبہ وطالبات پر امن احتجاج کرررہے تھے جن پر پولس نے پہلے آنس گیس کا استعمال کیا اس کے بعد کیمپس میں داخل کر ہوکر طلبہ پر لاٹھی چارج کیا ۔ تقریباتین سو آنسوگیس کے گولے داغے گئے ، لاٹھی چارج کی گئی طلبہ نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پولس نے بھاگنے بھی نہیں دیا اور ان کی اندھا دھند پٹائی کی ۔ کچھ طلبہ نے لائبریری اور مسجد میں پنا لینے کی کوشش کی لیکن پولس وہاں بھی جاپہونچی ۔
ملت ٹائمز کے نمائندہ منورعالم وہاں موجود تھے جنہوں نے دیکھا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں داخل ہوکر طلبہ او روہاں موجود مصلیوں کی پٹائی کی مسجد کے امام پر بھی پولس نے حملہ کیا ،لاٹھی چارج کیا جس میں مسجد کی گھڑی ، اوقات صلوة اور دیگر کئی طرح کے سامان کو بھی نقصان پہونچا ہے ۔ پولس نے جامعہ کی لائبری میں بھی داخل ہوکر طلبہ پر ظالمانہ حملہ کیا ۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…