امریکی فوج نے افغانستان میں ایک گھر کو ڈرون حملے میں تباہ کردیا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد ہلاک ہوگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے خوست کے ضلع علی شیر کے ایک گھر کو امریکی فوج نے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور 6 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں ایک خاتون اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔
صوبائی خوست کونسل کے ارکان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ ایک شہری کے گھر میں کیا گیا، ہلاک ہونے والوں میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اہل خانہ کے عسکریت پسند ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نےاپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گھر میں تین طالبان کمانڈر چھپے ہوئے تھے، حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے، جس پر علاقائی انتظامیہ سے مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔
ادھر سابق صدر حامد کرزئی نے حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ڈرون حملہ سنگدلانہ عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ افغان عوام پر صاف اور صریح تشدد کا واقعہ ہے۔ تمام فریقین امن کے لیے کام کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…