امریکی فوج نے افغانستان میں ایک گھر کو ڈرون حملے میں تباہ کردیا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد ہلاک ہوگئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے خوست کے ضلع علی شیر کے ایک گھر کو امریکی فوج نے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور 6 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں ایک خاتون اور 2 بچے بھی شامل ہیں۔
صوبائی خوست کونسل کے ارکان نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ ایک شہری کے گھر میں کیا گیا، ہلاک ہونے والوں میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اہل خانہ کے عسکریت پسند ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نےاپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ گھر میں تین طالبان کمانڈر چھپے ہوئے تھے، حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے، جس پر علاقائی انتظامیہ سے مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔
ادھر سابق صدر حامد کرزئی نے حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ڈرون حملہ سنگدلانہ عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ افغان عوام پر صاف اور صریح تشدد کا واقعہ ہے۔ تمام فریقین امن کے لیے کام کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…