شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں اسدی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان گذشتہ دو روز میں جھڑپوں میں کم سے کم ستر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ادلب میں اگست میں روس کی ثالثی میں جنگ بندی کے سمجھوتے کے بعد یہ خونریز لڑائی ہے اور مہلوکین میں متحارب فورسز کے جنگجو شامل ہیں۔
اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق صوبہ ادلب میں واقع شہر معرۃ النعمان کے بعض علاقوں میں لڑاکا جیٹ نے انتہا پسندوں اور ان کے اتحادی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی ہے جس کے بعد وہاں سے دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے۔شامی باغیوں نے ان علاقوں پر حال ہی میں قبضہ کیا تھا اور وہاں سے اسدی فوج کو ماربھگایا تھا۔لڑائی سے متاثرہ دیہات کے مکین نقل مکانی کرکے شمال کی جانب جارہے ہیں۔
شامی رصدگاہ نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز سے جاری لڑائی میں انہتر جنگجو اور فوجی مارے گئے ہیں۔ان میں چھتیس شامی فوجی یا ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے جنگجو ہیں۔شام میں ماضی میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ نے لڑائی کی پہل کی تھی ۔اس نے شامی فوج کی مختلف چوکیوں پر حملے کیے تھے جس کے بعد متحارب فورسز میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔
شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے اپنے چھن جانے والے علاقوں کو واپس لینے کے لیے رات کو جوابی حملہ کیا تھا اور روسی طیاروں نے باغیوں کے مختلف ٹھکانوں پر تباہ کن حملے کیے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…