جرمنی کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کو بم دھماکے سے اُرانے کی دھمکی پر پولیس نے فوری طور پر مسجد کو خالی کراکے سرچ آپریشن کیا تاہم بم کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے جرمنی کے شہر کولون ترک جرمن مساجد کی تنظیم دیتیب کی مرکزی اور جامع مسجد میں ٹیلی فون کے ذریعے بم کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی جس پر پولیس نے مسجد کو خالی کراکے سرچ آپریشن کیا تاہم ڈیڑھ گھنٹے کی تلاشی کے بعد مسجد کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔
کولون سینٹرل مسجد جرمنی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے اور اسے حال ہی میں تعمیر کیا گیا ہے جس کا افتتاح ترک صدر طیب اردگان نے کیا تھا اور یہاں نمازیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جب کہ مسجد سے ملحقہ حصے میں قائم دفاتر میں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی کے اوائل میں بھی اسی مسجد کو ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس ای میل کی چھان بین بھی کی گئی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید