جرمنی کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کو بم دھماکے سے اُرانے کی دھمکی پر پولیس نے فوری طور پر مسجد کو خالی کراکے سرچ آپریشن کیا تاہم بم کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے جرمنی کے شہر کولون ترک جرمن مساجد کی تنظیم دیتیب کی مرکزی اور جامع مسجد میں ٹیلی فون کے ذریعے بم کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی جس پر پولیس نے مسجد کو خالی کراکے سرچ آپریشن کیا تاہم ڈیڑھ گھنٹے کی تلاشی کے بعد مسجد کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔
کولون سینٹرل مسجد جرمنی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے اور اسے حال ہی میں تعمیر کیا گیا ہے جس کا افتتاح ترک صدر طیب اردگان نے کیا تھا اور یہاں نمازیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جب کہ مسجد سے ملحقہ حصے میں قائم دفاتر میں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی کے اوائل میں بھی اسی مسجد کو ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس ای میل کی چھان بین بھی کی گئی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…