جرمنی کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد کو بم دھماکے سے اُرانے کی دھمکی پر پولیس نے فوری طور پر مسجد کو خالی کراکے سرچ آپریشن کیا تاہم بم کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے جرمنی کے شہر کولون ترک جرمن مساجد کی تنظیم دیتیب کی مرکزی اور جامع مسجد میں ٹیلی فون کے ذریعے بم کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی جس پر پولیس نے مسجد کو خالی کراکے سرچ آپریشن کیا تاہم ڈیڑھ گھنٹے کی تلاشی کے بعد مسجد کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔
کولون سینٹرل مسجد جرمنی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے اور اسے حال ہی میں تعمیر کیا گیا ہے جس کا افتتاح ترک صدر طیب اردگان نے کیا تھا اور یہاں نمازیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے جب کہ مسجد سے ملحقہ حصے میں قائم دفاتر میں لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی کے اوائل میں بھی اسی مسجد کو ای میل کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس ای میل کی چھان بین بھی کی گئی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار