مقبوضہ کشمیر میں تقریبا ایک ماہ سے نافذ کرفیو اور بدترین پابندیوں نے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنادی، قابض فوج نے بھارت نواز اسیر سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی بدترین ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ساتھ ہی حریت رہنماؤں کے پر انسانیت سوز تشدد کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے مسلسل 28 روز ہوگئے تاحال موبائل، انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام بند ہیں اور اسکول ویران پڑے ہیں۔ قابض فورسز نے کشمیریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
بھارتی اخبار ’دا ہندو‘ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے اہل خانہ جب ان سے ملنے گئے تو انہیں پہچاننے میں مشکل ہوئی، وہ کافی لاغر اور کمزور دکھائی دے رہے تھے اور انہیں صبح صرف ایک گھنٹہ باہر آنے کی اجازت دی جاتی ہے، اسی طرح محبوبہ مفتی بھی ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پارہی ہیں۔
تقریباً مہینہ ہونے کو آرہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں جس کے باعث غذائی بحران نے سر اٹھا لیا ہے، زندگی بچانے والی ادویات کی بھی شدید قلت ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے مقبوضہ کشمیر کے اسپتالوں کو قبرستان میں بدل دیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…