بی جے پی کے نومنتخب رکن اسمبلی گوتم گھمبیر کے حلقے میں مسجد سے نماز پڑھ کر گھر جانے والے 25 سالہ نوجوان مسلمان کے سر سے ٹوپی اتروا کر ہندو انتہا پسندوں نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق بھارت شہر گوروگرم میں ہندو انتہا پسندوں نے مسجد سے باہر آنے والے 25 سالہ محمد برکت کے سر سے ٹوپی اتارنے کا کہا اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔
ہنندو انتہا پسندوں نے کہا کہ اس علاقے میں ٹوپی پہننے پر پابندی ہے اور آئندہ نظر آئے تو جان سے مار دیں گے۔ ہندو انتہا پسندوں نے محمد برکت کے کپڑے پھاڑ دیئے اور ’بھارت ماتا کی جے ہو‘ اور ’ جے شری رام‘ کے نعرے لگواتے رہے۔
محمد برکت کو اہل خانہ نے اسپتال منتقل کیا جہاں انتظامیہ نے پولیس کو طلب کیا، ملزمان کیخلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ نوجوان پر تشدد کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب مودی نے اپنی تقریر میں ہندو مسلم اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
حلقے سے نو منتخب رکن اسمبلی اور سابق کرکٹر گوتم گھمبیر نے مسلمان نوجوان پر تشدد کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کو گرفتار کر کے منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…