Muslim boys stand during a break inside a madrasa or religious school in the village Nayabans in the northern state of Uttar Pradesh, India May 9, 2019. Picture taken on May 9, 2019. REUTERS/Adnan Abidi
بھارتی ریاست اترپردیش کے شمالی گاؤں میں مسلمان رہائشیوں نے نریندرمودی کے دوبارہ وزیراعظم بننے کی صورت میں محفوظ مقام پر نقل مکانی کا عندیہ دے دیا۔
بیابانس نامی گاؤں کے مسلمانوں نے غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو پرست سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دوبارہ اقتدار میں آئی تو مسلمانوں کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی حکومت کے آنے سے پہلے ہندو مسلمان نوجوان لڑکے اور بچے مذہبی امتیاز کے بغیر ہر تقریب اور تہوار میں ساتھ ہوتے تھے لیکن اب ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف نفرت اس درجے پر پہنچ گئی کہ مسلمانوں نے نقل مکانی کا فیصلہ کرلیا۔
خیال ہے کہ بھارت میں انتخابی عمل مکمل ہوچکا ہے اور جمعرات سے باقاعدہ ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا۔
مقامی رہائشی علی نے بتایا کہ ’نریندرمودی اور ہندو قوم پرست وزیراعلیٰ اترپردیش یوگی آدیتہ ناتھ نے سارا فساد برپا کیا اور محض اپنے ایجنڈے کے لیے مسلمانوں اور ہندوؤں میں تفریق پیدا کردی‘۔
علی کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی، ہم یہاں سے نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں لیکن حالات اجازت نہیں دے رہے‘۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس میں متعدد مسلمان گھرانے محفوظ مقام پر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جس میں ان کے اپنے انکل بھی شامل ہیں۔
21 سالہ لا کی طالبہ عائشہ نے بتایا کہ ’اب ہمیں مذہبی آزادی میسر نہیں لیکن انہیں (ہندوؤں) کو مکمل آزادی حاصل ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ہندؤ مرد مذہبی تہوار پر مسلمان مخالف نعرے لگاتے ہیں۔
عائشہ نے بتایا کہ ’بی جے پی کی حکومت سے قبل ہم سب ایک دوسرے سے احترام سے پیش آتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں چاہتے‘۔
دہلی کے قریب رہائش اختیار کرنے والے 55 سالہ کارپینٹر جبار علی نے بتایا کہ ’اگر ہندو ایک ہندو پولیس انسپکٹر کو پولیس کے سامنے قتل کرسکتے ہیں تو مسلمانوں کی ادھر کیا حیثیت‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں گئورکشکوں کے ہجوم نے پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو تشدد کرکے قتل کردیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’وہ بہت خوفزدہ ہیں اگر نرریندر مودی اور یوگی آدیتہ ناتھ دوبارہ اقتدار میں آئے تو مسلمانوں کو محفوظ مقام کا انتخاب کرنا ہوگا‘۔
واضح رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس مانا جاتا ہے اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مئی 2015 سے دسمبر 2018 تک ہندو گاؤ رکشکوں کی جانب سے حملوں میں 44 افراد ہلاک ہوئے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد انتہا پسندوں کو ایسے حملوں کے لیے ہمت ملی۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام