جرمنی کے دارالحکومت برلن میں غازی عثمان پاشا مسجد کو مسلسل دھمکی آمیز خطوط موصول ہورہے ہیں اور اب ایک خط کے ساتھ اصلی گولی بھی بھیجی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد کی انجمن کے صدر علی شینیل نے میڈیا کو بتایا کہ دھمکیوں کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کردیا ہے، گزشتہ 3 ہفتوں سے دھمکی آمیز خطوط مل رہے ہیں، پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔
مسجد کے صدر نے مزید کہا کہ دھمکیوں کی وجہ سے رمضان میں دعوت افطار کی منسوخی کے بارے میں غور کر رہے ہیں تاہم اس کا فیصلہ مسجد کی کمیٹی کے ارکان سے مشاورت سے کریں گے۔
واضح رہے کہ رواں برس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر انتہا پسند سفید فام نے جدید اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 51 نمازی شہید اور 38 زخمی ہوگئے تھے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…