جرمنی کے دارالحکومت برلن میں غازی عثمان پاشا مسجد کو مسلسل دھمکی آمیز خطوط موصول ہورہے ہیں اور اب ایک خط کے ساتھ اصلی گولی بھی بھیجی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد کی انجمن کے صدر علی شینیل نے میڈیا کو بتایا کہ دھمکیوں کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کردیا ہے، گزشتہ 3 ہفتوں سے دھمکی آمیز خطوط مل رہے ہیں، پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔
مسجد کے صدر نے مزید کہا کہ دھمکیوں کی وجہ سے رمضان میں دعوت افطار کی منسوخی کے بارے میں غور کر رہے ہیں تاہم اس کا فیصلہ مسجد کی کمیٹی کے ارکان سے مشاورت سے کریں گے۔
واضح رہے کہ رواں برس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر انتہا پسند سفید فام نے جدید اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 51 نمازی شہید اور 38 زخمی ہوگئے تھے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…