امریکی ٹیکسی ڈرائیور نے اعتراف کیا ہے کہ وہ مسلمانوں جیسے حلیے والے ہر خاندان کو بغیر تصدیق کیے نشانہ بناتا آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پیدل چلنے والوں پر گاڑی چڑھا کر 8 افراد کو زخمی کرنے والے امریکی ڈرائیور نے ہول ناک انکشافات کیے ہیں۔
نسل پرست شخص نے پولیس کا بتایا کہ وہ پیدل چلنے والوں میں جس کا حلیہ مسلمانوں جیسا ہوتا تھا انہیں ٹکر مار دیا کرتا تھا جب کہ وہ ان افراد کے ناموں، قومیت تو دور مذہب کے بارے بھی کچھ نہیں جانتا تھا۔
پولیس نے 34 سالہ امریکی ڈرائیور کو عدالت میں پیش کیا جہاں ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ صرف حلیہ دیکھ کر حملہ کیا کرتا تھا اور ہوسکتا ہے کہ حملے کے شکار افراد مسلمان نہ ہوں مجھے معلوم نہیں۔
پراسیکیوٹر نے ملزم کا ذہنی معائنہ کرانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ محض حلیے کو بنیاد بنا کر حملے کرنا خطرناک رجحان ہے، یہ نفرت انگیز اور عصبیت سے بھی زیادہ خطرناک ہے جس کی سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید