ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کے دوران زخمی ہونے والے مفتی عامر شہاب جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر 22 مارچ کو دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے تھے جب کہ ان کے 2 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق اور بیت المکرم مسجد کے خطیب مفتی عامر شہاب شدید زخمی ہوگئے تھے جو آج جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ڈائریکٹرجناح اسپتال سیمی جمالی نے بتایا کہ مفتی عامر شہاب جناح اسپتال میں زیر علاج تھے اور حملے میں ان کے جسم کے بالائی حصے پر گولیاں لگی تھیں، وہ تقریباً 13 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہے اور آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار