ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کے دوران زخمی ہونے والے مفتی عامر شہاب جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر 22 مارچ کو دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جس میں مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے تھے جب کہ ان کے 2 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق اور بیت المکرم مسجد کے خطیب مفتی عامر شہاب شدید زخمی ہوگئے تھے جو آج جناح اسپتال میں دم توڑ گئے۔
ڈائریکٹرجناح اسپتال سیمی جمالی نے بتایا کہ مفتی عامر شہاب جناح اسپتال میں زیر علاج تھے اور حملے میں ان کے جسم کے بالائی حصے پر گولیاں لگی تھیں، وہ تقریباً 13 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہے اور آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…