بھارت کے اسکولوں میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو ہراساں کیاجانے لگا۔
پاک، بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں پر اسکولوں میں آوازے کسے جانے لگیں،ان بچوں کو اسامہ، بغدادی کے ناموں سے پکارا جانے لگا۔
بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو پاکستان جانے کے طعنے بھی دیے جانے لگے، بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے بعد مسلم کمیونٹی میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دوسری طرف معروف بھارتی صحافی ساگریکا گھوش نے بھی ایک بھارتی اخبار کا تراشہ جاری کیا۔
انہوں نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی اینکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ فخر سے خود سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مشن مکمل کرلیا‘‘کچھ بچوں کو رلانے پر مجبور کردیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…