بھارت کے اسکولوں میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو ہراساں کیاجانے لگا۔
پاک، بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں پر اسکولوں میں آوازے کسے جانے لگیں،ان بچوں کو اسامہ، بغدادی کے ناموں سے پکارا جانے لگا۔
بھارت میں مسلمان گھرانوں کے بچوں کو پاکستان جانے کے طعنے بھی دیے جانے لگے، بھارتی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے بعد مسلم کمیونٹی میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دوسری طرف معروف بھارتی صحافی ساگریکا گھوش نے بھی ایک بھارتی اخبار کا تراشہ جاری کیا۔
انہوں نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی اینکرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ فخر سے خود سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مشن مکمل کرلیا‘‘کچھ بچوں کو رلانے پر مجبور کردیا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید