طالبان اور افغان رہنماؤں نے روس میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے حامی بھر لی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان اور سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت دیگر افغان رہنماؤں کے درمیان امن مذاکرات کل ماسکو میں ہوں گے۔ فریقین نے 2 روزہ امن مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔
ادھر افغان طالبان کے امن مذاکرات میں کابل حکومت کے نمائندے کی غیر موجودگی کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کل ہونے والے مذاکرات میں کابل حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات کو تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طالبان افغانستان کے حقیقی نمائندوں سے ملاقات سے انکاری ہو کر غیر جمہوری قوتیں ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔
صدر اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغان عوام ایسے کسی امن مذاکرات کو نہیں مانیں گے جس میں ان کے حقیقی نمائندے شریک نہ ہوں۔ سابق صدر حامد کرزئی کو کابل حکومت کے نمائندے کی شرکت کے بغیر مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیئے۔
واضح رہے کہ قطر اور سعودی عرب میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد فریقین کا کئی اہم نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور فریقین نے ایک دوسری کو کئی معاملات میں یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…