طالبان اور افغان رہنماؤں نے روس میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے حامی بھر لی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان اور سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت دیگر افغان رہنماؤں کے درمیان امن مذاکرات کل ماسکو میں ہوں گے۔ فریقین نے 2 روزہ امن مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔
ادھر افغان طالبان کے امن مذاکرات میں کابل حکومت کے نمائندے کی غیر موجودگی کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کل ہونے والے مذاکرات میں کابل حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات کو تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طالبان افغانستان کے حقیقی نمائندوں سے ملاقات سے انکاری ہو کر غیر جمہوری قوتیں ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔
صدر اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغان عوام ایسے کسی امن مذاکرات کو نہیں مانیں گے جس میں ان کے حقیقی نمائندے شریک نہ ہوں۔ سابق صدر حامد کرزئی کو کابل حکومت کے نمائندے کی شرکت کے بغیر مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیئے۔
واضح رہے کہ قطر اور سعودی عرب میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد فریقین کا کئی اہم نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور فریقین نے ایک دوسری کو کئی معاملات میں یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…