امریکا میں شامی پناہ گزین 14 سالہ مسلم طالبہ کو مقامی اسکول کی ایک اور طالبہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست پنسلوانیا کے چارٹیئرز ویلی ہائی اسکول کی مقامی طالبہ نے شام سے تعلق رکھنے والی پناہ گزین طالبہ کو اسکول کے ٹوائلٹ میں تشدد کا نشانہ بنایا۔
شامی پناہ گزین امریکی طالبہ کے تشدد سے شدید زخمی ہوگئی جسے اسپتال منتقل کردیا گیا، طالبہ پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد امریکی پولیس مقامی طالبہ کے خلاف تفتیش کے لیے مجبور ہوئی۔
دوسری جانب کولیئر ٹاؤن شپ پولیس نے شامی طالبہ پر تشدد کو مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بجائے دو طالبات میں جھگڑا قرار دیکر مقدمے کو ختم کرنے کی کوشش کی اور صرف نظم وضبط کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی کی درخواست کی۔
پولیس ڈپارٹمنٹ نے واقعے سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ بچوں کے جرائم کی دفعات کے تحت درج کیا ہے اس لیے مبینہ ملزم اور متاثر طالبہ سے متعلق معلومات ظاہر نہیں کی جاسکتیں۔
مقامی تنظیم امریکا اسلامی تعاون کونسل نے 14 سالہ مسلمان طالبہ کو تمام تر قانونی مدد کی پیشکش کرتے ہوئے اصرار کیا کہ تشدد کا واقعہ مسلمان اور حجاب سے نفرت کا نتیجہ ہے جس کا جان بوجھ کر رخ موڑا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مسلمان طالبہ شام میں خانہ جنگی کے بعد دو سال اہل خانہ کے ہمراہ پناہ گزین کیمپ میں گزارنے کے بعد امریکا پہنچی تھی اور پنسلوانیا کے مقامی اسکول میں زیر تعلیم ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…