انڈونیشیا میں ہلاکت خیز سونامی نے تباہی مچا دی جس کی زد میں آکر 43 افراد ہلاک جب کہ 600 افراد زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے آبنائے سندا میں آتش فشاں پھٹنے سے سونامی نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 43 افراد ہلاک اور 600 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ سونامی کے بعد امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
انڈونیشن حکام کے مطابق سونامی کے باعث شہر کی کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جب کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سڑکوں اور گلیوں میں ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں، اسپتال زخمیوں سے بھرگئے ہیں جب کہ متاثرین کو خوراک، ادویات اور پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
انڈونیشین حکام نے بتایا کہ آبنائے سندا میں سمندری لہریں ممکنہ طورپرآتش فشاں پھٹنے سے پیدا ہوئیں جب کہ سونامی سے سماٹرا اور جاوا کےعلاقے زیادہ متاثرہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا میں 26 دسمبر2004 میں بھی تاریخ کا ہلاکت خیزسونامی آیا تھا جس میں ایک لاکھ سے زائد افراد اپنی جانوں سے گئے تھے اس کے باوجود انڈونیشیا نے احتیاطی تدابیراورہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے جس کا خمیازہ اس بار کی سونامی میں بھی بھگتنا پڑا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…