امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں طالبان جنگجوؤں سے برسرپیکار امریکی فوجی دستوں میں سے 7 ہزار اہلکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے افغانستان سے اپنی نصف فوج بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے، افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں سے 7 ہزار کو واپس بلایا جا رہا ہے۔
وزارت دفاع کے دو اہم حکام نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے شام کے بعد افغانستان سے بھی امریکی فوجیوں کے انخلاء کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا آغاز ہوگیا ہے تاہم 7 ہزار فوجی اہلکاروں کی واپسی میں سو روز لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے افغانستان سے نصف امریکی فوجیوں کے انخلاء کے زبانی احکامات دیئے ہیں۔ امریکی صدر اس فیصلے پر تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ادھر فروری میں ریٹائرڈ ہونے والے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جیمز میٹس افغانستان جنگ میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے اور ممکنہ طور پر افغان وار سے انخلاء کی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر مستعفی ہوئے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…