امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں طالبان جنگجوؤں سے برسرپیکار امریکی فوجی دستوں میں سے 7 ہزار اہلکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے افغانستان سے اپنی نصف فوج بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے، افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں سے 7 ہزار کو واپس بلایا جا رہا ہے۔
وزارت دفاع کے دو اہم حکام نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے شام کے بعد افغانستان سے بھی امریکی فوجیوں کے انخلاء کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا آغاز ہوگیا ہے تاہم 7 ہزار فوجی اہلکاروں کی واپسی میں سو روز لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے افغانستان سے نصف امریکی فوجیوں کے انخلاء کے زبانی احکامات دیئے ہیں۔ امریکی صدر اس فیصلے پر تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ادھر فروری میں ریٹائرڈ ہونے والے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جیمز میٹس افغانستان جنگ میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے اور ممکنہ طور پر افغان وار سے انخلاء کی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر مستعفی ہوئے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…