جنوبی کوریا میں انسانی حقوق کے دفاع کے لیے سرگرم ملک کی سب سے بڑی تنظیم نے روہنگیا نسل کے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کی وجہ سے برما کی خاتون رہ نما آنگ سان سوچی سے سنہ 2004ء میں دیا گیا انسانی حقوق ایوارڈ واپس لینےکا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ میانمار میں فوجی حکومت کے دور میں گھر پر جبری نظربندی کے عرصے میں آنگ سان سوچی ایوارڈ وصول کرنے جنوبی کوریا نہیں جاسکیں۔ تاہم اقتدار میں آنے کےبعد انہیں انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوںکے لیے کام کرنے کے صلے میں جنوبی کوریا کی تنظیم کی طرف سے امن ایوارڈ جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے سوچی کی جماعت برما میں برسراقتدار ہے مگر اس پر روہنگیا میں مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عاید کیاجا رہا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2017ء سے اب تک روہنگیا میں ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کو شہید اور سات لاکھ 20 ہزار کو ملک بدر کردیا گیا۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی میں وہاںکی فوج کے ساتھ بدھ مذمت کے انتہا پسند بھی پیش پیش ہیں۔
ادھر’18 مئی یاد گار فائونڈیشن’ کے ترجمان شوجین تائی نے ‘اےایف پی’ کو بتایا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کے صلے میں امن ایوارڈ حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی کے روہنگیا میں مسلمانوں پر وحشیانہ جرائم کو جواز مہیا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایوارڈ جرائم کی پردہ پوشی میں مدد گار نہیں ہوسکتا۔ تنظیم کی انتظامی کونسل نے سوچی سے ایوارڈ واپس لینے کا اعلان کیا ہے
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام