مسلم اقلیتیں

مجھے اسلام کی تبلیغ کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک

وطن واپسی کے خواہشمند معروف اسلامی مبلغ ذاکر نائیک نے ملائیشیا میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھارتی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور انہیں اسلام دشمنوں کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 53 سالہ ذاکر نائیک پر بھارت میں منی لانڈرنگ اورنفرت آمیز تقریر کرنے کا الزام ہے، گزشتہ برس بھارتی حکومت نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ’وہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں مذہبی گروہوں کے درمیان اختلاف کا بیج بو رہے ہیں‘۔
بھارت کی جانب سے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیے جانے کے بعد سے وہ ملائیشیا میں مقیم ہیں لیکن وہاں بھی ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ملائیشیا کے کثیرالنسلی کے معاشرے کے لیے خطرہ ہیں، چناچہ انہوں نے اپنی سرگرمیاں محدود رکھی ہوئی ہیں۔
اپنی گفتگو میں ذاکر نائیک کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی قانون نہیں توڑا لیکن چونکہ میں امن کی ترویج کی بات کرتا تھا اور انسانیت کے مسائل کے حل پیش کرتا تھا اس لیے جو لوگ امن کو پسند نہیں کرتے وہ مجھے پسند نہیں کرتے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے اسلام کی تبلیغ کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے‘۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ان کے اسلامی خیالات پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے مطابق وہ مرتد اور ہم جنس پرستی میں مبتلا افراد کے لیے سزائے موت کی تجویز دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ یوٹیوب پر موجود ایک ویڈیو کلپ میں ذاکر نائیک نے کہا تھا کہ’ اگر اسامہ بن لادن دہشت گرد ملک امریکا کو دہشت زدہ کررہا ہے جو سب سے بڑا دہشت گرد ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں‘۔
دوسری جانب گزشتہ برس بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک کیفے میں ہونے والے حملے سے 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بارے میں میڈیا کا کہنا تھا کہ حملہ آور ذاکر نائیک سے متاثر تھے۔
تاہم اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی تھی لیکن بنگلہ دیشی حکومت نے ذاکر نائیک کی تقاریر نشر کرنے والے ٹیلی ویژن چینل پر پابندی عائد کردی تھی۔
اس کے علاوہ برطانیہ بھی 8 برس قبل 2010 میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آمد پر پابندی لگا چکا ہے۔
ملائیشیا میں ہونے والے گزشتہ روز کے اجتماع میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا خطاب سننے کے لیے وزیر اعلیٰ، ولی عہد اور مذہبی عہدیداروں سمیت ایک ہزار افراد موجود تھے۔
ایک تاثر یہ بھی موجود ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ملائیشیا کی گزشتہ حکومت سے خاصے گہرے تعلقات تھے جسے مئی 2018 میں ہونے والے انتخابات میں شکست ہوگئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت نے ان کی حوالگی کی درخواست کی تھی تاہم نئے وزیر اعظم مہاتیر محمد جولائی میں کہا تھا کہ جب تک ذاکر نائیک ملائیشیا کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہیں انہیں ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago