افغانستان میں ایک امریکی فضائی حملے میں طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر جاں بحق ہو گئے ہیں.
ملا عبدالمنان اخوند جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے ‘گورنر’ اور فوجی سربراہ تھے۔
صوبائی حکام کے مطابق وہ ہفتے کی رات نوزاد ضلعے میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔
طالبان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ملا منان کی موت کو ‘بڑا نقصان’ قرار دیا ہے، تاہم یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نجیب دانش نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ملا منان کی موت طالبان کے لیے بڑا دھچکہ ہے اور سے جنوبی افغانستان میں طالبان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔
برطانوی فوجیوں نے ہلمند صوبے کو آٹھ سال تک اپنا مرکز بنائے رکھا تھا اور 2014 میں یہاں سے انخلا کیا تھا۔
اس کے بعد سے صوبے کے بیشتر حصے دوبارہ سے طالبان کے قبضے میں آ گئے تھے۔
اس سال کے اوائل میں بی بی سی کی تحقیق کے مطابق طالبان کا ملک کے بڑے حصے پر غلبہ ہے۔
ایک تخمینے کے مطابق ملک کی تقریباً آدھی آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے جہاں طالبان سرگرم ہیں۔
تاہم طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ ماہ طالبان کے ایک وفد نے ماسکو میں افغان امن پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید