بھارتی دارالحکومت میں ہندو انتہا پسندوں نے تشدد کرکے مدرسے کے کمسن طالب علم کو شہید کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں مدرسہ فریدیہ کے باہر طلبہ کھیل رہے تھے کہ مقامی ہندو لڑکے وہاں پہنچے ۔ انہوں نے بچوں کو مغلظات بکیں اور مارنا پیٹنا شروع کردیا۔
تشدد کے نتیجے میں متعدد طالب علم زخمی ہوگئے۔ ایک طالب علم کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ جاں بحق طالب علم کی شناخت محمد عظیم کے نام سے ہوئی جس کی عمر 8 سال تھی۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے طلبہ پر حملہ کرنے والے چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ تمام ملزمان کی عمر بھی 12 سال ہے۔
مقامی ہندوؤں کی جانب سے مسجد اور مدرسے کے خلاف پہلے بھی اشتعال انگیز کارروائیں کی جاتی رہی ہیں جس کی پولیس کو شکایات بھی کرائی گئیں تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ مدرسے کے مہتمم مولانا علی جوہر نے بتایا کہ گزشتہ شب برات پر مسجد میں شراب کی بوتلیں پھینکی گئی تھیں۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…