امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک عدالت نے ایک مقای جامع مسجد کو نذرآتش کرنے کے جرم میں 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 26 سالہ پیریز نامی شدت پسند ایک مذہبی لیڈر بھی ہے پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پر اکسانے سمیت کئی دیگر الزامات کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ اس نے گذشتہ برس جنوبی ٹکساس میں مسجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا تھا۔
اس کے خلاف ٹکساس کی ویکٹوریا عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور عدلت نے ملزم مارک فنسٹ پرییز کو چوبیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ گذشتہ جولائی میں اس پر نفرت پھیلانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔
اس موقع پر استغاثہ کے وکلاء کا کہنا تھا کہ بدترین نفرت نے ملزم کو مسجد کو شہید اور اس سے ملحقہ اسلامک سینٹر کو نذرآتش کرنے پر مجبور کیا۔
امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ پیریز ٹکساس کے خلیج کے طول عرض میں پھیلے مسلمانوں میں خوف وہراس پھیلانے کا موجب بنا ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام