سوال
میں قرض دار ہوں ، مگر حج پر جارہا ہوں، جو میرا بیٹا کرارہا ہے، تو کیا میرا حج پر جانا جائز ہے؟
جواب
اگر آپ پر قرض ہے اور اس کی ادائیگی کے اسباب نہیں ہیں اور آپ کا بیٹا آپ کو حج پر لے جارہا ہے تو آ پ حج پر جاسکتے ہیں، کسی قسم کی کراہت کے بغیر حج ادا ہوجائے گا۔ البتہ مقروض شخص اگر اپنی رقم سے حج پر جانا چاہے تو اسےپہلے قرض ادا کرنا چاہیے، اس کے بعد حج ادا کرنا چاہیے، لیکن قرض کے باوجود حج کرنے سے حج ادا ہوجاتا ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 221)
” ويكره الخروج إلى الغزو والحج لمن عليه الدين”۔فقط واللہ اعلم
دارالإفتاء جامعة العلوم الاسلامیة-علامہ محمدیوسف بنوری ٹاؤن کراچی
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…