سوال
میں قرض دار ہوں ، مگر حج پر جارہا ہوں، جو میرا بیٹا کرارہا ہے، تو کیا میرا حج پر جانا جائز ہے؟
جواب
اگر آپ پر قرض ہے اور اس کی ادائیگی کے اسباب نہیں ہیں اور آپ کا بیٹا آپ کو حج پر لے جارہا ہے تو آ پ حج پر جاسکتے ہیں، کسی قسم کی کراہت کے بغیر حج ادا ہوجائے گا۔ البتہ مقروض شخص اگر اپنی رقم سے حج پر جانا چاہے تو اسےپہلے قرض ادا کرنا چاہیے، اس کے بعد حج ادا کرنا چاہیے، لیکن قرض کے باوجود حج کرنے سے حج ادا ہوجاتا ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 221)
” ويكره الخروج إلى الغزو والحج لمن عليه الدين”۔فقط واللہ اعلم
دارالإفتاء جامعة العلوم الاسلامیة-علامہ محمدیوسف بنوری ٹاؤن کراچی
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام