سوال
میں قرض دار ہوں ، مگر حج پر جارہا ہوں، جو میرا بیٹا کرارہا ہے، تو کیا میرا حج پر جانا جائز ہے؟
جواب
اگر آپ پر قرض ہے اور اس کی ادائیگی کے اسباب نہیں ہیں اور آپ کا بیٹا آپ کو حج پر لے جارہا ہے تو آ پ حج پر جاسکتے ہیں، کسی قسم کی کراہت کے بغیر حج ادا ہوجائے گا۔ البتہ مقروض شخص اگر اپنی رقم سے حج پر جانا چاہے تو اسےپہلے قرض ادا کرنا چاہیے، اس کے بعد حج ادا کرنا چاہیے، لیکن قرض کے باوجود حج کرنے سے حج ادا ہوجاتا ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 221)
” ويكره الخروج إلى الغزو والحج لمن عليه الدين”۔فقط واللہ اعلم
دارالإفتاء جامعة العلوم الاسلامیة-علامہ محمدیوسف بنوری ٹاؤن کراچی
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…