زابل (سنی آن لائن) صوبہ سیستان بلوچستان کے شمالی حصہ (سیستان) سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق مولانا عبدالرشید شہ بخش نے وزیر داخلہ، صوبائی گورنر سمیت متعدد ذمہ داروں کی موجودی میں سیستان کے مسائل حل میں سنجیدگی نہ دکھانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
مولانا عبدالرشید نے سیستان کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خطے کے مسائل خاص کر بستیوں میں انتہائی افسوسناک ہیں۔ یہاں کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنے کا کام بحرانوں سے دوچار ہوچکاہے۔ کوئی فیکٹری بھی نہیں جہاں لوگ کام کریں۔ بیمار لوگ علاج کے لیے پریشان ہیں۔ ان ہی مشکلات کی وجہ سے بہت سارے لوگوں نے سیستان کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں جاکر رہائش اختیار کی ہے۔
جامعہ بدرالعلوم زابل کے مہتمم نے مزید کہا: سیستان کی سرحدیں افغانستان سے لگتی ہیں اور اس موقع سے لوگوں کی خاطر فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ صدر مملکت کے حکم کے باوجود، سرحدی مارکیٹس بند ہیں۔
انہوں نے سیستان کے اہل سنت کو نظرانداز کرنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: سیستان میں چالیس فیصد سے زائد آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے، اس کے باوجود ان کے قابل اور لائق افراد کی صلاحیتوں سے کام نہیں لیاجاتاہے۔ اہل سنت کے قابل افراد کو خدمت کا موقع دیاجائے، اس سے عوام اور حکام کے اتحاد میں قوت آئے گی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رضامندی حاصل ہوجائے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…