بھارتی سپریم کورٹ نے تاج محل سے ملحقہ مسجد میں غیر مقامی افراد کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں تاج محل سے متصل جامع مسجد میں غیر مقامی افراد کے نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ہے۔ فیصلے کی رو سے صرف آگرہ کے رہائشیوں کو شناخت کے بعد مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تاج محل دنیا کے سات عجائب میں سے ایک ہے یہ ایک قومی ورثہ ہے جس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے اس لیے تاج محل سے ملحقہ مسجد میں سیاحوں اور غیر مقامیوں کی نماز کی ادائیگی سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نماز جمعہ کے وقت زیادہ رش کے باعث خوبصورت تاج محل کو نقصان پہنچنے کا بھی احتمال رہتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی مجسٹریٹ کی عدالت نے بھی اسی قسم کی پابندی عائد کی تھی جس پر ایک شہری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے مقامی انتظامیہ کے فیصلے کی توثیق کی۔ ایسا ہی فیصلہ 2013 میں محکمہ ثقافت کی جانب سے بھی سامنے آیا تھا تاہم اس پر عمل در آمد نہیں ہوسکا تھا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار