بھارتی سپریم کورٹ نے تاج محل سے ملحقہ مسجد میں غیر مقامی افراد کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں تاج محل سے متصل جامع مسجد میں غیر مقامی افراد کے نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ہے۔ فیصلے کی رو سے صرف آگرہ کے رہائشیوں کو شناخت کے بعد مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ تاج محل دنیا کے سات عجائب میں سے ایک ہے یہ ایک قومی ورثہ ہے جس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے اس لیے تاج محل سے ملحقہ مسجد میں سیاحوں اور غیر مقامیوں کی نماز کی ادائیگی سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نماز جمعہ کے وقت زیادہ رش کے باعث خوبصورت تاج محل کو نقصان پہنچنے کا بھی احتمال رہتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی مجسٹریٹ کی عدالت نے بھی اسی قسم کی پابندی عائد کی تھی جس پر ایک شہری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے مقامی انتظامیہ کے فیصلے کی توثیق کی۔ ایسا ہی فیصلہ 2013 میں محکمہ ثقافت کی جانب سے بھی سامنے آیا تھا تاہم اس پر عمل در آمد نہیں ہوسکا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…