Syrian government soldiers ride in an army truck near the Nassib border crossing with Jordan in the southern province of Daraa on July 6, 2018, after they regained control over it from rebel forces. The Nassib crossing was overrun by rebels in April 2015, sealing off the regime's crucial trade route with neighbouring Jordan, which calls it Jaber. With the crossing's recapture two weeks into a Russian-backed offensive, the government hopes it can reopen the vital trade lifeline. / AFP PHOTO / Mohamad ABAZEED
شامی اپوزیشن اور روسی فوج کے درمیان درعا گورنری میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر بمباری روک دی ہے اور اردن کی سرحد سے متصل ’نصیب‘ گذرگاہ کا کنٹرول بشارالاسد کی وفادار فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔
شامی اپوزیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپوزیشن فورسز بھاری ہتھیار سرکاری فوج کے حوالے کریں گی جبکہ شامی فوج حالیہ دنوں میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے بہ تدریج واپس چلی جائے گی۔ معاہدے کے تحت اردن کی سرحد پر روسی ملٹری پولیس کے دستے تعینات کیے جائیں گے، جب کہ اردن اور شام کے درمیان سرحدی گذرگاہ کا کنٹرول اسد رجیم کے پاس رہے گا۔
اسی سیاق میں بتایا گیا ہے کہ اسد رجیم کے ساتھ مصالحت نہ کرنے والے اپوزیشن گروپوں کو ملک کے شمالی علاقوں میں اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں میں بھیجا جائے گا۔ سرکاری فوج سے فرار کے بعد باغیوں میں شامل ہونے والے اہلکاروں کو چھ ماہ کی مہلت دی جائے گی۔
کل جمعہ سے جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد بھاری توپ خانے اور فضائی حملوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے تاہم بعض مقامات پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز سے درعا میں شامی اپوزیشن اور روسی فوج کے درمیان درعا میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے چار دور ہوئے۔
شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’سیرین آبزر ویٹری‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جُمعہ کو علی الصباح اسدی فوج کے جنگی طیاروں نے جنوبی شام میں نصیب، طفس، النعیمیہ اور دیگر مقامات پر بمباری کی تھی جب کہ درعا شہر میں شامی اپوزیشن کے ٹھکانوں پر 10 بیرل بم گرائے گئے تھے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…