افغان طالبان نے امن مذاکرات کی حکومتی پیشکش ایک بار پھر مسترد کردی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں امن مذاکرات کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے حکومتی امن مذاکرات کی پیشکش کو ایک بار پھر ٹھکرا دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے غیرملکی افواج کے نکلنے تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ترجمان نے حکومتی حکام کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نواز حکومت کے نمائندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔
ایک وقت تھا کہ جب طالبان نے امن مذاکرات کی ہامی بھری تھی تاہم انہوں نے ’پیس ٹاک‘ میں شامل نمائندوں کو امریکی نواز کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا اور مذاکراتی عمل کو غیر ملکی افواج کے انخلاء سے مشروط کیا تھا۔
واضح رہے کہ افغان حکومت نے 17 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم حکومت کو اس میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام