افغان طالبان نے امن مذاکرات کی حکومتی پیشکش ایک بار پھر مسترد کردی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں امن مذاکرات کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے حکومتی امن مذاکرات کی پیشکش کو ایک بار پھر ٹھکرا دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے غیرملکی افواج کے نکلنے تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ترجمان نے حکومتی حکام کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نواز حکومت کے نمائندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔
ایک وقت تھا کہ جب طالبان نے امن مذاکرات کی ہامی بھری تھی تاہم انہوں نے ’پیس ٹاک‘ میں شامل نمائندوں کو امریکی نواز کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا اور مذاکراتی عمل کو غیر ملکی افواج کے انخلاء سے مشروط کیا تھا۔
واضح رہے کہ افغان حکومت نے 17 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم حکومت کو اس میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…