سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مردوں میں چست لباس، یعنی پینٹ پتلون کا عام رواج ہو گیا ہے، مرد کے لیے گھٹنوں سے ناف تک کا حصہ ستر ہے، کیا ستر کے صرف یہ معنی ہیں کہ بدن کا رنگ نظر نہ آئے، یا اس کے ساتھ بدن کی ساخت کا نظر نہ آنا یہ بھی مطلوب شرعی ہے؟ ایسے پتلون کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ اس کو پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟پہننے والے کی رانوں کو دیکھنا اور اس کو دکھانے کا کیا حکم ہے؟ ایسی نماز واجب الاعادہ ہے یا نہیں؟ جواب مدلل تحریر فرمائیں۔
جواب… واضح رہے کہ فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لیے گھٹنوں سے ناف تک کے حصے کے ستر میں بدن کی ساخت کا نظر نہ آنا بھی مطلوب شرعی ہے، لہٰذا اگر لباس اتنا چست ہو کہ اس میں واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کا استعمال، پہننے والے کی رانوں کو دیکھنا، اس کو دکھانا ناجائز ہے، البتہ اس میں نماز کراہت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…