کنارک + بوساسو(سنی آن لائن) اکتوبر 2017 سے مئی 2018 تک صومالیہ حکومت کی قید میں رہنے والے سترہ ایرانی بلوچ ماہی گیر اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔ ریاست بنط لینڈ کے شہر بوساسو میں قیدی ماہی گیروں کو ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید کی ثالثی پررہا کیا گیا۔
سنی آن لائن کی اطلاعات کے مطابق، مئی دوہزار سترہ میں غلطی سے صومالیہ کی ریاست بنط لینڈ میں غلطی سے جانے والی ماہیگیر کشتی کو ساحلی گارڈ نے اپنے قبضہ میں لیا۔ اس کارروائی میں کشتی کا کیپٹن فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔ ماہی گیروں نے گار ڈ کو “قزاق” سمجھ کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
بوساسو کی ایک عدالت نے ہر ماہی گیر کو پندرہ سو ڈالر اور دو سال قید کی سزا سنائی تھی، لیکن اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید کی درخواست پر سب کو جرمانہ اور قید کی سزا سے معاف کیا گیا۔
اس دوران صومالیہ حکومت نے ایران کے جنوبی شہر بندرعباس میں قید صومالی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا جو منظور ہوا اور ستائیس صومالی قیدی بھی رہا ہوکر گھر پہنچ گئے۔
بلوچ ماہی گیروں کے اہل خانہ نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اور ایرانی وزارت خارجہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان ماہی گیروں کی رہائی کے لیے کوشش کی۔
یاد رہے دس مئی کو رہائی پانے کے بعد مذکورہ ماہی گیر کشتی کے وکیل کے گھر میں بند رہے جو اپنی فیس کا مطالبہ کرتا تھا۔
بالاخر مذکورہ وکیل چھ ہزار ڈالر لے کر ماہی گیروں کو چھوڑنے پر رضامند ہوگیا۔ بعد از آں کینیا میں ایرانی سفیر نے ماہی گیروں کی واپسی اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا بندوبست کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…