تہران (ایلنا+سنی آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ میں سنی بلاک کے سربراہ ڈاکٹر رحیمی نے کہا ہے سنی برادری مذہبی آزادی چاہتی ہے اور تہران سمیت جہاں بھی سنی شہری رہتے ہیں، انہیں مسجد تعمیر کرنے کا حق ہے۔
معروف خبررساں ادارہ ایلنا سے گفتگو کرتے ہوئے سنی رکن پارلیمان نے کہا: سنی برادری متعدد بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ سب سے اہم مسئلہ ہمارا حق عبادت ہے۔ تہران سمیت جن علاقوں میں سنی شہری رہتے ہیں، انہیں اقامہ نماز کے لیے اپنی ہی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر جلیل رحیمی نے مزید کہا: ملک میں میرٹوکریسی نہیں ہے اور میں واضح طورپر کہتاہوں سنی برادری صرف اپنے مسلک کی وجہ سے مختلف عہدوں سے دور رکھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے سنی ارکان پارلیمان نے متعدد اعلی حکومتی عہدیداروں کو نوٹس بھیجا ہے اور صدر مملکت سے ملاقات کی درخواست بھی دائر کی جاچکی ہے۔
صوبہ خراسان کے تربت جام اور صالح آباد سے منتخب رکن پارلیمان نے امتیازی سلوک پر تنقید کرتے ہوئے کہا: صوبہ خراسان میں جہاں سات لاکھ سنی شہری رہتے ہیں اس برادری سے ایک سٹی گورنر تک متعین نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ موجودہ صدر کی کامیابی میں تمام صوبوں کی سنی برادری نے کلیدی کردار ادا کیا۔
یاد رہے دارالحکومت تہران میں اہل سنت کی کوئی باقاعدہ مسجد نہیں ہے اور اکثر شہری نمازخانوں میں نماز ادا کرتے ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار