شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں دو ہفتوں سے جاری حکومتی بمباری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔
طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم ایم ایس ایف کے مطابق 18 فروری سے جاری بمباری میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ ان حملوں میں 15 کے قریب طبی یونٹس اور شیلٹرز بھی تباہ ہوگئے ہیں جس کے باعث 4 ہزار سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی تعطل کا شکار ہے۔
جنگ زدہ علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے والی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ گزشتہ روز عالمی ادارے ریڈ کراس کے 13 امدادی ٹرک مشرقی غوطہ کے متاثرہ علاقے پہنچے تاہم اس دوران شیلنگ اور بمباری بھی جاری رہی جس کے باعث پناہ گزینوں کو طبی امداد اور کھانے پینے کی اشیا تقسیم نہیں ہو سکی تھی ۔
مشرقی غوطہ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے عالمی قوتوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر عمل در آمد نہیں ہوسکا ہے جب کہ بمباری کے باعث معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کی جانب سے بطور احتجاجاً ’خالی اعلامیہ‘ بھی جاری کیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…