سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
1..کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص تیمم کرکے نماز ادا کرتا رہا، اس کی نمازیں ہوں گی؟
2..تیمم کرنے والا نجاست کیسے دور کرے؟ کپڑے یا بدن سے؟
جواب…1.. واضح رہے کہ کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص کو اگر خادم میسر ہو ، یا ایسا کوئی معاون کہ مدد طلب کرنے پر وہ اس کے ساتھ تعاون کرتا، تو اس طرح کا شخص وضو پر قادر شمار ہو گا، اس پر وضو کرنا لازم ہے اور اس کا تیمم کرنا درست نہیں ہے، وہ نمازیں جو اس نے تیمم سے ادا کی ہیں، ان کا اعادہ کرے گا۔
2..تیمم کرنے والا پانی یا اس کے متبادل پاک چیز کے ذریعے سے اپنے جسم یا کپڑوں سے نجاست دور کرے، اگر کسی بھی طریقے سے وہ نجاست دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اسی حالت میں نماز ادا کرے۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید