سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
1..کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص تیمم کرکے نماز ادا کرتا رہا، اس کی نمازیں ہوں گی؟
2..تیمم کرنے والا نجاست کیسے دور کرے؟ کپڑے یا بدن سے؟
جواب…1.. واضح رہے کہ کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص کو اگر خادم میسر ہو ، یا ایسا کوئی معاون کہ مدد طلب کرنے پر وہ اس کے ساتھ تعاون کرتا، تو اس طرح کا شخص وضو پر قادر شمار ہو گا، اس پر وضو کرنا لازم ہے اور اس کا تیمم کرنا درست نہیں ہے، وہ نمازیں جو اس نے تیمم سے ادا کی ہیں، ان کا اعادہ کرے گا۔
2..تیمم کرنے والا پانی یا اس کے متبادل پاک چیز کے ذریعے سے اپنے جسم یا کپڑوں سے نجاست دور کرے، اگر کسی بھی طریقے سے وہ نجاست دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اسی حالت میں نماز ادا کرے۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…