سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ
1..کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص تیمم کرکے نماز ادا کرتا رہا، اس کی نمازیں ہوں گی؟
2..تیمم کرنے والا نجاست کیسے دور کرے؟ کپڑے یا بدن سے؟
جواب…1.. واضح رہے کہ کسی سے وضو کروانے پر قادر شخص کو اگر خادم میسر ہو ، یا ایسا کوئی معاون کہ مدد طلب کرنے پر وہ اس کے ساتھ تعاون کرتا، تو اس طرح کا شخص وضو پر قادر شمار ہو گا، اس پر وضو کرنا لازم ہے اور اس کا تیمم کرنا درست نہیں ہے، وہ نمازیں جو اس نے تیمم سے ادا کی ہیں، ان کا اعادہ کرے گا۔
2..تیمم کرنے والا پانی یا اس کے متبادل پاک چیز کے ذریعے سے اپنے جسم یا کپڑوں سے نجاست دور کرے، اگر کسی بھی طریقے سے وہ نجاست دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اسی حالت میں نماز ادا کرے۔
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…