لیبیا کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران 2 بم دھماکوں کے نتیجے میں ایک شخص شہید جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی کے مرکزی علاقے الماجوری میں واقع مسجد کو اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ ادا کررہے تھے۔ دہشت گردوں نے پہلے سے نصب بارودی مواد کو بھری مسجد میں عین نماز کے دوران ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں دو زوردار دھماکے ہوئے۔
طبی عملے کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں ایک شخص جاں بحق جب کہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خیال رہے کہ بن غازی لیبیا کا دوسرا بڑا شہر ہے جو کہ خلیفہ ہفتار کی سربراہی میں لیبین نیشنل آرمی کے زیر قبضہ ہے ، یہ آرمی شدت پسند تنظیم داعش اور القاعدہ سے وابستہ دیگر عسکری گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔
خلیفہ ہفتار نے بن غازی میں سن 2014ء میں دھماکوں اور قتل وغارت گری میں سیکڑوں اموات کے بعد بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشنز شروع کیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…