لیبیا کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران 2 بم دھماکوں کے نتیجے میں ایک شخص شہید جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی کے مرکزی علاقے الماجوری میں واقع مسجد کو اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ ادا کررہے تھے۔ دہشت گردوں نے پہلے سے نصب بارودی مواد کو بھری مسجد میں عین نماز کے دوران ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں دو زوردار دھماکے ہوئے۔
طبی عملے کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں ایک شخص جاں بحق جب کہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خیال رہے کہ بن غازی لیبیا کا دوسرا بڑا شہر ہے جو کہ خلیفہ ہفتار کی سربراہی میں لیبین نیشنل آرمی کے زیر قبضہ ہے ، یہ آرمی شدت پسند تنظیم داعش اور القاعدہ سے وابستہ دیگر عسکری گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔
خلیفہ ہفتار نے بن غازی میں سن 2014ء میں دھماکوں اور قتل وغارت گری میں سیکڑوں اموات کے بعد بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشنز شروع کیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…