لیبیا کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران 2 بم دھماکوں کے نتیجے میں ایک شخص شہید جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی کے مرکزی علاقے الماجوری میں واقع مسجد کو اس وقت دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جب کہ بڑی تعداد میں لوگ نمازِ جمعہ ادا کررہے تھے۔ دہشت گردوں نے پہلے سے نصب بارودی مواد کو بھری مسجد میں عین نماز کے دوران ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں دو زوردار دھماکے ہوئے۔
طبی عملے کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں ایک شخص جاں بحق جب کہ 60 سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خیال رہے کہ بن غازی لیبیا کا دوسرا بڑا شہر ہے جو کہ خلیفہ ہفتار کی سربراہی میں لیبین نیشنل آرمی کے زیر قبضہ ہے ، یہ آرمی شدت پسند تنظیم داعش اور القاعدہ سے وابستہ دیگر عسکری گروہوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔
خلیفہ ہفتار نے بن غازی میں سن 2014ء میں دھماکوں اور قتل وغارت گری میں سیکڑوں اموات کے بعد بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشنز شروع کیا تھا۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…