جرمنی کی مقامی عدالت نے مقامی جوڑے کی شکایت پر مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کے نواحی قصبے اوہر ایرکنشویک میں واقع مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ مسجد سے 600 میٹر دور رہنے والے 69 سالہ ہانس یوآخم لیہمان نے اپنی بیوی کے ہمراہ مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے اور اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، بالخصوص جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذببی آزادی کے منافی ہے۔
مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکام نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی لہذٰا عدالت لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کرتی ہے تاہم مسجد میں اذان دینے کی اجازت کے لئے دوبارہ درخواست بھی دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے اس مؤقف کی تردید کی کہ اذان ان کی ’مذہبی آذادی‘ کے خلاف ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید