جرمنی کی مقامی عدالت نے مقامی جوڑے کی شکایت پر مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کے نواحی قصبے اوہر ایرکنشویک میں واقع مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ مسجد سے 600 میٹر دور رہنے والے 69 سالہ ہانس یوآخم لیہمان نے اپنی بیوی کے ہمراہ مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے اور اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، بالخصوص جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذببی آزادی کے منافی ہے۔
مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکام نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی لہذٰا عدالت لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کرتی ہے تاہم مسجد میں اذان دینے کی اجازت کے لئے دوبارہ درخواست بھی دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے اس مؤقف کی تردید کی کہ اذان ان کی ’مذہبی آذادی‘ کے خلاف ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…