جرمنی کی مقامی عدالت نے مقامی جوڑے کی شکایت پر مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کے نواحی قصبے اوہر ایرکنشویک میں واقع مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کردی گئی۔ مسجد سے 600 میٹر دور رہنے والے 69 سالہ ہانس یوآخم لیہمان نے اپنی بیوی کے ہمراہ مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے اور اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، بالخصوص جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذببی آزادی کے منافی ہے۔
مقامی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حکام نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی لہذٰا عدالت لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کرتی ہے تاہم مسجد میں اذان دینے کی اجازت کے لئے دوبارہ درخواست بھی دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے اس مؤقف کی تردید کی کہ اذان ان کی ’مذہبی آذادی‘ کے خلاف ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…