Khawlah Noman, 11, waits to speak to reporters at Pauline Johnson Junior Public School, after she told police that a man cut her hijab with scissors in Toronto, Ontario, Canada January 12, 2018. REUTERS/Chris Helgren
کینیڈا میں ٹورانٹو کی پولیس اُس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں ایک شخص نے جمعے کے روز قینچی کی مدد سے اسکول جانے والی ایک 11 سالہ بچّی کے سر کا اسکارف کاٹ دیا۔ واقعے کے بعد حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کو روکنے کے لیے دیگر اقدامات کرے۔
شہر کی پولیس کی ترجمان کے مطابق حملہ آور شخص نے دس منٹ کے اندر دو کوششوں میں چھٹی جماعت کی طالبہ خولہ نعمان کے حجاب (سر کے اسکارف) کو کاٹ دیا جو اپنے بھائی کے ساتھ اسکول جانے کے لیے راستے میں تھی۔
خولہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ” میں اس موقع پر گھبراہٹ، خوف اور دہشت کا شکار ہو گئی۔ میں زور سے چِلّائی جس پر وہ آدمی فرار ہو گیا۔ لوگوں نے ہمیں محفوظ جگہ تک پہنچایا مگر وہ دوبارہ لوٹ آیا اور پھر سے میرے حجاب کو کاٹ دیا”۔
دوسری جانب اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اُسے اس حملے کی وجہ سے سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اونٹاریو صوبے کی وزیر اعلی کیتھلین وین نے اس واقعے کو “بزدلانہ نفرت انگیر کارروائی” قرار دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کیوبک صوبے کی ایک عدالت نے کام یا خدمات عامہ کی انجام دہی کے دوران نقاب پہننے اور چہرے کو ڈھانپنے پر عائد پابندی کے قانون کو جزوی طور پر معطّل کر دیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…