روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے شام سے فوجی انخلاء کا حکم دے دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوٹن غیر اعلانیہ دورے پر شام کے صوبہ لتاکیا کے خمیم ایئر بیس پہنچے جہاں شامی صدر بشار الاسد نے ان کا استقبال کیا۔
ایئر بیس پر روسی کمانڈر اور فوجیوں سے ملاقات کے دوران ولادی میر پیوتن نے کہا کہ دو برسوں میں روس اور شامی افواج نے مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں مسلح گروپوں کو شکست دی ہے، جس کے بعد اب ہم شام کے بڑے حصے سے اپنی فوجیں نکال کر واپس اپنے ملک بھیج رہے ہیں، میں وزیر دفاع اور چیف آف دی جنرل اسٹاف کو حکم دیتا ہوں کہ شامی تنصیبات پر مستقل تعینات اہلکاروں کو واپس بلالیں۔
روسی صدر نے کہا کہ اگر داعش سمیت کسی دہشت گرد تنظیم نے دوبارہ شام میں سراٹھانے کی کوشش کی تو انہیں روسی فضائیہ نشانہ بنانے کے لیے تیار رہے گی، اس کے علاوہ شام کے لیے روسی اصلاحاتی سینٹر بدستور کام کرتا رہے گا اور روسی افواج خمیم ایئربیس اور ٹارٹس بندر گاہ مستقل استعمال کرتی رہیں گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال اکتوبر میں روسی وزیرخارجہ نے عندیہ دیا تھا کہ بہت جلد روسی افواج کو شام سے نکال لیا جائے گا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…