روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے شام سے فوجی انخلاء کا حکم دے دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوٹن غیر اعلانیہ دورے پر شام کے صوبہ لتاکیا کے خمیم ایئر بیس پہنچے جہاں شامی صدر بشار الاسد نے ان کا استقبال کیا۔
ایئر بیس پر روسی کمانڈر اور فوجیوں سے ملاقات کے دوران ولادی میر پیوتن نے کہا کہ دو برسوں میں روس اور شامی افواج نے مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں مسلح گروپوں کو شکست دی ہے، جس کے بعد اب ہم شام کے بڑے حصے سے اپنی فوجیں نکال کر واپس اپنے ملک بھیج رہے ہیں، میں وزیر دفاع اور چیف آف دی جنرل اسٹاف کو حکم دیتا ہوں کہ شامی تنصیبات پر مستقل تعینات اہلکاروں کو واپس بلالیں۔
روسی صدر نے کہا کہ اگر داعش سمیت کسی دہشت گرد تنظیم نے دوبارہ شام میں سراٹھانے کی کوشش کی تو انہیں روسی فضائیہ نشانہ بنانے کے لیے تیار رہے گی، اس کے علاوہ شام کے لیے روسی اصلاحاتی سینٹر بدستور کام کرتا رہے گا اور روسی افواج خمیم ایئربیس اور ٹارٹس بندر گاہ مستقل استعمال کرتی رہیں گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال اکتوبر میں روسی وزیرخارجہ نے عندیہ دیا تھا کہ بہت جلد روسی افواج کو شام سے نکال لیا جائے گا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…