حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت حکیم الامت قدس اللہ سرہ کو دین کی صحیح فہم عطا فرمائی، اور دین کے مخفی گوشوں کو آشکارکرنے اور ملفوظات میں جگہ جگہ اس پر تنبیہ فرمانے کی توفیق انہیں نصیب ہوئی۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔ فرماتے ہیں: سفارش اس طرح نہ کراؤ جس سے دوسرا آدمی مغلوب ہوجائے۔ جس سے دباؤ پڑے، یہ سفارش جائز نہیں، اس لئے کہ سفارش کی حقیقت ”توجہ دلانا“ ہے کہ میرے نزدیک یہ شخص حاجت مند ہے، اور میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں کہ یہ اچھا مصرف ہے۔ اس پر اگر آپ کچھ خرچ کردیں گے تو ان شاءاللہ اجر و ثواب ہوگا۔ یہ نہیں کہ اس کام کو ضرور کرو، اگر تم نہیں کروگے تو میں ناراض ہوجاؤں گا، خفا ہوجاؤں گا، یہ سفارش نہیں ہے۔ یہ دباؤ ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام