انسانی حقوق کی تنظٰیموں کی طرف سے جاری کردہ بیانات کے مطابق گذشتہ روز ملک کے مشرقی شہر دیر الزور میں روسی طیاروں کی بم باری کے نتیجے میں 15 بچوں سمیت 34 عام شہری جاں بحق ہوگئے۔
انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والےادارے ’آبزرویٹری‘ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اتوار کو علی الصباح روسی طیاروں نے دیر الزور میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر واقع الشعفہ کے مقام پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔
رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ مقتولین کا تعلق دو یا تین خاندانوں سے ہے۔
خیال رہے کہ الشعفہ قصبہ ماضی میں بھی روسی اور شامی فوج کے جنگی طیاروں کی بمباری کا نشانہ بن چکا ہے۔ روسی اور اسدی افواج دریائے فرات کے دونوں کناروں پر داعش کے خلاف آپریشن کی آڑ میں عام شہری آبادی پر بمباری کر رہی ہے۔
رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ داعش کے جنگجو اسدی فوج کے خلاف جاری آپریشن میں اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں۔
خیال رہے کہ داعش نے سنہ 2014ء کے وسط میں عراق کی سرحد سے ملحقہ دیر الزور شہر میں پر قبضہ کرلیا تھا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…