رپورٹ میں میانمار کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے گلے کاٹنے اور انہیں زندہ جلائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی 30 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ارخین میں منظم اور وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز اورعام افراد نے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی صفائے کے مرتکب ہوئے۔
رپورٹ میں میانمار فورسز کے حملوں میں زندہ بچ جانے والے عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق میانمار کی فورسز نے ایک حملے میں 100،100 افراد کا قتل بھی کیا اور لاشیں اکٹھی کرکے انہیں آگ لگائی گئی۔
انسانی حقوق کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میانمار کے فوجیوں نے خواتین کی عزتیں لوٹیں،اجتماعی زیادتی کی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بلا امتیاز بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔
رپورٹ میں شامل واقعات 2016 میں اکتوبر سے دسمبر کے درمیان اور رواں سال اگست کے بعد پیش آئے جب مزاحمت کاری کے بہانے نام نہاد آپریشن شروع کیا گیا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید