رپورٹ میں میانمار کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے گلے کاٹنے اور انہیں زندہ جلائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی 30 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ارخین میں منظم اور وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز اورعام افراد نے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی صفائے کے مرتکب ہوئے۔
رپورٹ میں میانمار فورسز کے حملوں میں زندہ بچ جانے والے عینی شاہدین اور امدادی کارکنوں کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق میانمار کی فورسز نے ایک حملے میں 100،100 افراد کا قتل بھی کیا اور لاشیں اکٹھی کرکے انہیں آگ لگائی گئی۔
انسانی حقوق کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میانمار کے فوجیوں نے خواتین کی عزتیں لوٹیں،اجتماعی زیادتی کی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بلا امتیاز بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔
رپورٹ میں شامل واقعات 2016 میں اکتوبر سے دسمبر کے درمیان اور رواں سال اگست کے بعد پیش آئے جب مزاحمت کاری کے بہانے نام نہاد آپریشن شروع کیا گیا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…