کراچی/سراوان (سنی آن لائن) ایران کی سنی برادری کے مایہ ناز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف حسین پور مختصر علالت کے بعد کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اطلاعات کے مطابق، شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف حسین پور دل کے آپریشن اور علاج کے لیے کراچی تشریف لے گئے تھے کہ آپریشن کے بعد ان کی حالت غیر ہوگئی۔ چند منٹوں کے بعد اس عظیم ہستی کی روح پرواز کرگئی۔ آپ کی عمر 87 برس تھی۔
مولانا محمدیوسف حسین پور ایرانی اہل سنت کے علمی حلقوں میں ’شیخ الحدیث‘ کے نام سے مشہور ہیں اور گزشتہ ساٹھ سالوں سے قرآن و حدیث کی تدریس سے وابستہ تھے۔ آپ ایرانی بلوچستان کے ممتاز دینی ادارہ ’عین العلوم‘ گشت ضلع سراوان کے مہتمم و شیخ الحدیث تھے۔
مولانا حسین پور رحمہ اللہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور جامعہ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی کے متخصص تھے جہاں آپ نے مولانا محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ سے استفادہ کرکے حدیث میں تخصص حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا مفتی محمود، مولانا بنوری، مولانا عبدالخالق، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا عبداللہ درخواستی اور مولانا عبدالواحد گشتی (خلیفہ مجاز مولانا حسین علی) رحمہم اللہ جیسے عظیم ہستیوں کے نام آتے ہیں۔
مولانا حسین پور کی تالیفی و تصنیفی خدمات میں معارف القرآن مولانا مفتی محمدشفیع دیوبندی، انوار الباری شرح صحیح بخاری ، حجة اللہ البالغہ کا فارسی میں ترجمہ اوردیگر متعدد علمی تصانیف شامل ہیں۔
یاد رہے مولانا محمدیوسف حسین پور کا جسد خاکی ابھی تک پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہے جہاں سے انہیں ایرانی بلوچستان کی طرف لایاجارہاہے۔ حسب اعلان، بدھ دس اکتوبر کو ان کی نماز جنازہ گشت عیدگاہ میں ادا کی جائے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…