میانمار کی فوج کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں پھٹنے سے ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمان معذور ہونے لگے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کو واپس آنے سے روکنے کے لیے سرحد پر بارودی سرنگیں بچھا رہی ہے اور برطانوی میڈیا نے بتایا ہے کہ ان سرنگوں کی زد میں آنے والے مہاجرین معذور ہوگئے ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 3 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین سرحد عبور کر بنگلا دیش جاچکے ہیں۔
بی بی سی کے صحافیوں نے بنگلا دیش کے اسپتال میں معذور ہونے والے روہنگیا مسلمانوں سے ملاقات کی جن میں ایک 15 سالہ بچہ بھی شامل ہے جو دونوں ٹانگوں سے محروم ہوچکا ہے۔ 15 سالہ لڑکے عزیز الحق کی والدہ نے بتایا کہ اس کے بھائی کا بھی یہی حال ہے جو دوسرے اسپتال میں زیر علاج ہے اور وہ شدید زخمی اور تکلیف میں ہے، بنگلا دیش کے جن اسپتالوں میں روہنگیا مسلمان زیرعلاج ہیں وہاں علاج معالجے کی خراب صورت حال ہے۔
اسپتال میں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ سرحد عبور کرنے کے دوران ان پر اور ان کے اہل خانہ پر فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں وہ بھاگے اور اس دوران وہ ایک بارودی سرنگ پر گر گئیں۔ زخمیوں نے بتایا کہ سرحد عبور کرنے کے دوران میانمار کی فوج نے ان پر فائرنگ کی اور بارودی سرنگوں سے نشانہ بنایا۔ ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تعداد میں بارودی سرنگوں سے زخمی ہونے والے افراد آرہے ہیں۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار