مرکزی سرکارکے ذریعہ عدالت عظمیٰ میں داخل حلف نامہ میں روہنگیا مسلمانوں کو دہشت گرد تنظیموں سے جوڑے جانے پر یہاں کے علماء نے سخت اعتراض کیاہے،
دارالعلوم دیوبند نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ انسانیت کے ناطے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنی چاہئے، مرکزی حکومت کے ذریعہ عدالت عظمی میں روہنگیا مسلمانوں کے سلسلہ میں حلف نامہ داخل کیا گیا ہے اس میں ان کو دہشت گرد تنظیم ائی ایس ائی اور ائی ایس سے منسلک بتاتے ہوئے ان کے ہندوستان میں رہنے پر ملک کی سکیورٹی کو خطرہ بتایا گیا ہے، اس پر علماء نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمان برما کی سرکار کے ظلم سے پریشان ہوکر ملک چھوڑنے پرمجبور ہیں اس لئے ایسے بے بس مجبور اور بے سہارا افراد کو دہشت گرد تنظیموں سے جوڑے جانا سراسرغلط ہے۔
دارالعلوم دیوبند نے مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے روہنگیا مسلمانوں کے سلسلہ میں حلف نامہ پراعتراض درج کرایا ہے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ مرکزی حکومت برباد حال اورلٹے پٹے روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے سلسلہ میں جو اقدامات کر رہی ہے وہ باعث افسوس ہیں، مرکزی حکومت نے عدالت میں جو حلف نامہ داخل کیاہے وہ نہایت تشویش ناک اور افسوس ناک ہے صحیح بات یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو مرکزی حکومت راحت پہنچانے کے بجائے تکلیف پہنچارہی ہے، یہ پوری انسانیت کو شرمسار کرنے والا عمل ہے، مفتی ابوالقاسم نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی دیرینہ روایات کے پیش نظر وسیع القلبی کا معاملہ کرنا چاہئے تھا اور روہنگیا لوگوں کی ہر اعتبارسے مدد کرنی چاہئے تھی انہوں نے کہا کہ برما میں جو انسانیت سوز حالات پیش آرہے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہے وہاں کے برباد لوگ اپنی جان بچاکر دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں اسی طرح ہندوستان میں بھی بہت سے روہنگیا مسلمان پناہ گزیں ہیں جن کے بارے میں یہ امید کی جاتی رہی ہے کہ ہماری حکومت ہر سطح پر ان کا تعاون کرے گی، انہوں نے کہا لیکن یہ معاملہ ہندوستانی مزاج کے برخلاف سامنے آرہاہے، مفتی ابوالقاسم نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق دکھانا بڑا مضحکہ خیز ہے، انہوں نے کہا کہ حقوق انسانی کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو ہندوستانی حکومت پر دبائو بنانا چاہئے کہ وہ نہ صرف یہ کہ جو روہنگیا یہاں پناہ گزیں ہیں ان کے علاوہ بھی اگرمیانمار (برما) سے تباہ حال انسان یہاں آنا چاہیں توان کے لئے دروازے فراخ دلی کے ساتھ کھول دئے جائیں.
دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے ایک بار پھر مرکزی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں کا خیال کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں پر مزید ظلم نہ کرے اور عدالت عظمیٰ میں دیا گیا اپنا حلف نامہ واپس لے۔
واضح ہو کہ گذشتہ دو روز قبل وزارت داخلہ ہند کی ہارمنی فائونڈیشن کے رکن ڈاکٹر ایم جے خان دیوبند آئے تھے اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات کی تھی اس موقع پر بھی دارالعلوم دیوبند نے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں اپنا مضبوط موقف رکھتے ہوئے مرکزی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ہندوستان میں پناہ گزیں روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے بجائے انسانیت کے ناطے ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے اور ان کے زخموں پر مرہم لگایا جائے مگر حکومت ہند کی جانب سے آج حلف نامہ عدالت عظمیٰ میں داخل کیا گیا ہے اس سے دارالعلوم دیوبند کے ماحول میں خفگی و ناراضگی پائی جاتی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…