امریکی ریاست مینیسوٹا میں مسجد پر بم حملہ ہوا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق مینیسوٹا میں نماز فجر کے دوران مسجد الفاروق پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا۔ امریکی محکمہ ایف بی آئی نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ایف بی آئی کے افسر رچرڈ تھورٹن نے بتایا کہ تحقیقات میں معلوم کیا جائے گا کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی جرم ہے یا اس کا محرک کوئی اور ہے۔ ابتدائی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ مسجد کو آئی ای ڈی (دھماکہ خیز ڈیوائس) سے نشانہ بنایا گیا جس کے پرزہ جات جائے وقوع سے ملے ہیں جن کا جائزہ لے کر ملزمان تک پہنچے جائے گا۔
مسلم امریکن سوسائٹی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد مسجد میں آگ لگ گئی لیکن نمازیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے قبل ہی آگ پر قابو پالیا۔
عینی شاہد اسد زمان نے صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم کار سوار ملزمان چلتی گاڑی سے مسجد پر پھینک کر فرار ہوگئے۔ مسجد کے منتظمین نے بتایا کہ امریکا میں دیگر مسجد کی طرح مسجد الفاروق کو بھی دھمکی خیز فون اور ای میلز موصول ہوئی تھیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید