امریکی ریاست مینیسوٹا میں مسجد پر بم حملہ ہوا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق مینیسوٹا میں نماز فجر کے دوران مسجد الفاروق پر بم حملہ ہوا جس کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا۔ امریکی محکمہ ایف بی آئی نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ایف بی آئی کے افسر رچرڈ تھورٹن نے بتایا کہ تحقیقات میں معلوم کیا جائے گا کہ یہ واقعہ نفرت پر مبنی جرم ہے یا اس کا محرک کوئی اور ہے۔ ابتدائی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ مسجد کو آئی ای ڈی (دھماکہ خیز ڈیوائس) سے نشانہ بنایا گیا جس کے پرزہ جات جائے وقوع سے ملے ہیں جن کا جائزہ لے کر ملزمان تک پہنچے جائے گا۔
مسلم امریکن سوسائٹی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد مسجد میں آگ لگ گئی لیکن نمازیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے قبل ہی آگ پر قابو پالیا۔
عینی شاہد اسد زمان نے صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم کار سوار ملزمان چلتی گاڑی سے مسجد پر پھینک کر فرار ہوگئے۔ مسجد کے منتظمین نے بتایا کہ امریکا میں دیگر مسجد کی طرح مسجد الفاروق کو بھی دھمکی خیز فون اور ای میلز موصول ہوئی تھیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…