تہران (سنی آن لائن) ایران میں نئی کابینہ کے اعلان سے پہلے بیس سنی ارکان مجلس نے صدر روحانی سے مطالبہ کیا ہے نئی کابینہ میں اہل سنت برادری کو شامل کیا جائے۔
اہل سنت ایران کی آفیشل ویب سائٹ (sunnionline.us) نے ایرانی پارلیمنٹ میں سنی بلاک کے ایک خط کے حوالے سے لکھا ہے: حالیہ انتخابات میں سنی برادری نے تمام تر مشکلات کے باوجود بڑے پیمانے پر صدر روحانی کے اصلاح پسندانہ نعروں کی حمایت کی۔
سنی نمائندوں نے نئی کابینہ میں اہل سنت کی مشارکت اور اعلی عہدوں پر ان کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے ایسے اقدامات کو ڈاکٹر روحانی کے نعروں اور وعدوں کے مطابق اور قومی اتحاد کے لیے معاون قرار دیا ہے۔
انیس سو اناسی کے انقلاب کے بعدسے اب تک اہل سنت برادری سے کوئی وزیر یا صوبائی گورنر منتخب نہیں ہوچکاہے۔ غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق، ایران میں کم ازکم پندرہ ملین ایرانی شہریوں کا تعلق سنی برادری سے ہے جو زیادہ تر سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں۔
سنی بلاک نے نئے صدر سے مطالبہ کیا ہے نئی کابینہ کے لیے سنی برادری سے بھی وزرا نامزد کرے۔
اس سے پہلے ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے بھی نئے صدر سے مطالبہ کیاہے کہ نئی کابینہ میں اہل سنت کو شامل کیا جائے۔
یاد رہے تازہ ترین انتخابات میں چھ ملین سے زائد سنی ووٹرز نے صدر روحانی کو ووٹ دیا ہے جس کی بناپر وہ انتخابات جیت گئے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…