Categories: عالم اسلام

بیت المقدس:نفیر کا جمعہ، جھڑپوں میں ۳ فلسطینی جاں بحق متعدد زخمی

“العربیہ” نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں جمعے کے روز اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے والوں میں تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
آج نمازِ جمعہ کے بعد مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے تمام علاقوں میں جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کے اطراف سخت سکیورٹی اقدامات کے بعد کشیدگی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان اقدامات میں مسجد کے داخلی راستوں پر دھات کا انکشاف کرنے والے آلات اور خصوصی اسکینر شامل ہیں جنہوں نے فلسطینی نمازیوں اور قیادت کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔
اسرائیلی پولیس نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے پچاس برس سے کم عمر افراد کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے البلدہ القدیمہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں نے جمعے کی نماز مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی سڑکوں پر ادا کی۔
نماز جمعہ کے اختتام کے ساتھ ہی قابض فوج کے اہل کاروں کی جانب پتھراؤ کیا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ اور آنسو گیس کے شیلوں کے ذریعے اُن فلسطینیوں کو منتشر کر دیا جو نماز ادا کرنے سے روکے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔
ادھر بیت المقدس میں البلدہ القدیمہ کی باڑھ کے باہر مرکزی شاہراہ صلاح الدین پر سیکڑوں فلسطینیوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ بعد ازاں اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس نے نمازیوں کو منتشر کرنے کے واسطے آوازوں والے بموں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

تقریبا 100 زخمی
مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلا دینے کے نتیجے میں کم از کم 100 فلسطینی زخمی ہو گئے۔
مسجد اقصی کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور نماز کی اجازت نہ دینے کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاج کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیلی حکام پولیس کے علاوہ فوجی اہل کاروں کو بھی بھیجنے پر مجبور ہو گئی جو ایک نادر اقدام تھا۔
قابض اہل کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز قلندیا میں ہوا اور پھر اس کا دائرہ بیت لحم اور مسجد اقصی کے اطراف پھیل گیا۔

نفیر کا جمعہ
فلسطینیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ آج کا دن بطور “نفیر کا جمعہ” منایا جائے۔ واضح رہے کہ فلسطینیوں نے گزشتہ جمعے کو اسرائیلی اقدامات کے بعد اتوار کے روز سے مسجد اقصی کے اندر نماز ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی کے صحن کو نمازیوں کے لیے بند کر کے غیر مسبوق فیصلہ کیا تھا جس نے مسلمانوں اور بیت المقدس میں اسلامی مقامات مقدسہ کی نگرانی کرنے والے اردنی حکام کو چراغ پا کر دیا۔
دوسری جانب شدت پسند یہودی اسرائیلی پولیس کی جانب سے باب مغاربہ کے ذریعے غیر ملکی سیاحوں کو مسجد اقصی کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ مسجد اقصی میں داخل ہو کر اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں۔

baloch

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

3 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

3 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

7 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

7 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

7 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago