دارالعلوم امدادیہ کے صدر مدرس مولانا محمدشفیق صاحب قاسمی کا سانحۂ ارتحال

ممبئی عظمیٰ کی قدیم دینی درسگاہ، مسلک دیوبند کا ترجمان دارالعلوم امدادیہ (چونا بھٹی مسجد ممبئی) کے استاذ تفسیر وصدرالمدرسین مولانا محمد شفیق قاسمی ومظاہری کا آج بروز بدھ شام چار بجے صابو صدیق اسپتال، امام باڑہ روڈ ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
آپ کے انتقال کی خبر جیسے ہی پھیلی، علمی دنیا میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی، مولانا تقریباً پچاس سال سے امدادیہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ درس نظامی کی تقریباً بیشتر کتابیں آپ نے پڑھائیں۔ خصوصاً تفسیر کی معرکۃ الآرا کتاب جلالین شریف کا تقریباً چالیس سال تک درس دیا۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کرہی ضلع بستی میں حاصل کی۔ درجہ علیا کی تعلیم کےلئے آپ مظاہر العلوم سہارنپور تشریف لے گئے، جہاں محدث کبیر شیخ زکریا علیہ الرحمہ سے بخاری شریف پڑھی، آپ شیخ زکریا علیہ الرحمہ کے شاگرد رشید وخادم خاص اور نہایت چہیتے تھے۔ آپ نے تقریباً 17سال کی عمر میں مظاہر العلوم سہارنپور سے سند فضیلت حاصل کی، پھر تکمیل تفسیر کے لئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں سے کبار علما سے فیضیاب ہوئے۔
فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی گاؤں کرہی کے مشہور مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ممبئی تشریف لائے اور مدرسہ دارالعلوم امدادیہ سے منسلک ہوئے جہاں آپ نے تقریباً پچاس سالوں تک طالبان علوم نبویہ کو علم ربانی سے فیضیاب کیا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر تقریباً 75 سال تھی۔
آپ کے پسماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ آپ کے انتقال پر تعزیت مسنونہ کا سلسلہ جاری ہے۔ مولانا محمد شفیق قاسمی کے انتقال پر مولانا مستقیم احسن اعظمی(صدرجمعیۃ علماء مہاراشٹر ) مولانا حلیم اللہ قاسمی(جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا،پسماندگان سے تعزیت مسنونہ پیش کیااور صبر کی تلقین کی نیز مر حوم کی مغفرت و بلندئ درجات کے لئے دعاکی،ساتھ ہی جمعیۃ علماء کی ذیلی شاخوں،ائمہ مساجد،ذمہ داران مدارس عربیہ اور عامۃ المسلمین سے ایصال ثواب کے اہتمام کی درخواست کی ہے۔مشہور عالم دین مسلم پرسنل لا کے رکن مولانا محمود دریابادی نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت میرے اساتذہ میں سے تھے آپ جید الاستعداد، سادہ مزاج، نام ونمود سے دور رہنے والے عالم دین تھے، آپ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا وہ پر ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ مکہ میگزین کے ایڈیٹر مولانا شاہد ناصری الحنفی نے بھی شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اسم بامسمی تھے، جس طرح سے نام شفیق تھا اسی طرح آپ شفقت سے پر تھے۔
مسجد عبداللہ بن مسعودؓ مسقط عمان کے امام وخطیب مولانا مستفیض الرحمن قاسمی نے بھی حضرت سے دلی وابستگی کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ حضرت سادہ مزاج شخص، بلند پایہ مدرس اور قد آور انسان تھے، جدوجہد آپ کا امتیازی وصف تھا، کتب بینی آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا، تاریخ وسیر میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا، امدادیہ کی حیرت انگیز تعلیمی وتعمیری ترقیات آپ کی مرہون منت تھی، آج امدادیہ اپنے ایک عظیم مدرس سے محروم ہوگیا ہے۔ آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ واضح رہے کہ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی ممبر پارلیمنٹ ورکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند اور مولانا محمود دریابادی کے علاوہ کئی نامور علما آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں آپ کے شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں جو حضرت شیخ کے لئے ذریعہ آخرت ثابت ہوگا انشااللہ ۔

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

12 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago