جامعة الحرمین الشریفین چابہار کے سینئر استاذ مولانا رعایت اللہ روانبد طویل علالت کے بعد دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
مولانا رعایت اللہ کینسر کی بیماری میںمبتلا تھے ۔ آپ کا انتقال جمعہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہوا۔
اطلاعات کے مطابق مرحوم دارالعلوم کراچی کے فاضل تھے اور عرصے سے جامعة الحرمین الشریفین سمیت بعض ہائی سکولز میں پڑھاتے تھے۔ آپ نے بعض کتابیں بھی تالیف کی ہے جنہیں علمی حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی ہے۔
مولانا رعایت اللہ روانبد بلوچی اور فارسی میں شعرگوئی بھی کرتے تھے۔ آپ کے والد مولانا عبداللہ روانبدرحمہ اللہ ’سعدی بلوچستان‘ کے نام سے مشہور ہیں اور ان کے فارسی، بلوچی اور عربی اشعار کافی مشہور ہیں۔
مولانا روانبد کی نماز جنازہ جمعے کی نماز کے بعد مولانا عبدالرحمن چابہاری کی امامت میں ادا کی گئی جنہیں بعداز آں چابہار کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سمیت متعدد دینی و سماجی شخصیات نے مولانا روانبد کے انتقال پرملال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…