جامعة الحرمین الشریفین چابہار کے سینئر استاذ مولانا رعایت اللہ روانبد طویل علالت کے بعد دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔
مولانا رعایت اللہ کینسر کی بیماری میںمبتلا تھے ۔ آپ کا انتقال جمعہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہوا۔
اطلاعات کے مطابق مرحوم دارالعلوم کراچی کے فاضل تھے اور عرصے سے جامعة الحرمین الشریفین سمیت بعض ہائی سکولز میں پڑھاتے تھے۔ آپ نے بعض کتابیں بھی تالیف کی ہے جنہیں علمی حلقوں میں بڑی پذیرائی ملی ہے۔
مولانا رعایت اللہ روانبد بلوچی اور فارسی میں شعرگوئی بھی کرتے تھے۔ آپ کے والد مولانا عبداللہ روانبدرحمہ اللہ ’سعدی بلوچستان‘ کے نام سے مشہور ہیں اور ان کے فارسی، بلوچی اور عربی اشعار کافی مشہور ہیں۔
مولانا روانبد کی نماز جنازہ جمعے کی نماز کے بعد مولانا عبدالرحمن چابہاری کی امامت میں ادا کی گئی جنہیں بعداز آں چابہار کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید سمیت متعدد دینی و سماجی شخصیات نے مولانا روانبد کے انتقال پرملال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ و متعلقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…