میانمار کی رہنما آنگ سانگ سوچی نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ملک میں مسلمان اقلیت کی نسل کی بنیاد پر صفائی ہو رہی ہے۔
نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات کو تسلیم کیا کہ میانمار کی شمالی ریاست رخائین میں مشکلات ہیں جہاں روہنگیا کے مسلمان آباد ہیں۔
ان کا یہ کہنا تھا کہ نسلی صفائی جیسی اصطلاح کا استعمال ‘بہت سخت’ ہے۔
میانمار کی ڈی فیکٹو رہنما کے مطابق ملک میں واپس آنے والے روہنگیا مسلمانوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا جائے گا۔
آنگ سانگ سوچی نے بی بی سی کے خصوصی نامہ نگار فرگل کین کو بتایا ‘مجھے نہیں لگتا کہ میانمار میں مسلمان اقلیت کی نسل کی بنیاد پر صفائی ہو رہی ہے۔ میرے خیال سے میانمار میں کیا ہو رہا ہے کے حوالے سے نسلی صفائی جیسی اصطلاح کا استعمال بہت سخت ہے۔’
انھوں نے کہا ‘مجھے لگتا ہے وہاں بہت دشمنی ہے۔ وہاں مسلمان مسلمان کو مار رہے ہیں اگر انھیں لگتا ہے کہ وہ حکام سے تعاون کر رہے ہیں۔’
’یہ صرف کسی ایک کمیونٹی کو ختم کرنے کی بات نہیں ہے جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں۔ لوگ تقسیم ہوئے ہیں اور ہم اس تقسیم کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
آنگ سانگ سوچی کو اس وقت بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب میانمار کی حکومت نے شمالی ریاست رخائین میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔
میانمار کی فوج نے گذشتہ سال سرحدی محافظوں پر ہونے والے حملوں کے بعد فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کے دوران فوج پر روہنگیا کے مسلمانوں کے قتل، تشدد اور ریپ کے الزامات عائد کیے گئے یہاں تک کہ 70,000 افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش بھاگنا پڑا۔
اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کے مقدمات کی جانچ پڑتال کرے گا۔
اس حوالے سے پہلی بار انٹرویو دیتے ہوئے آنگ سانگ سوچی کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو مارگریٹ تھیچر ہیں اور نہ ہی مدد ٹریسا لیکن ایک ساستدان ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے ہی جواب دے چکی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ’یہ سوال مجھ سے سنہ 2013 سے پوچھا جا رہا ہے جب رخائین میں حالات خراب ہوئے تھے۔ صحافی مجھ سے سوالات کرتے ہیں اور میں ان کا جواب دیتی ہوں تاہم لوگ کہتے ہیں کہ میں نے کچھ نہیں کہا۔ صاف بات یہ ہے کہ میں لوگوں کی خواہش کے مطابق بیان نہیں دیتی ہوں۔
آنگ سانگ سوچی کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ اکتوبر حملے کیوں کیے گئے لیکن یہ امن کے عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی میانمار کی فوج کو اپنی مرضی کرنے کی کھلی چھٹی دی گئی تھی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…