یورپی کمپنیوں کو حجاب پر پابندی لگانے کی اجازت

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے یورپی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ اپنے ملازمین کو اسلامی اسکارف پہننے سے روک سکتی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ‘یورپین کورٹ آف جسٹس’ (ای سی جے) نے اپنے فیصلے میں یورپی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ اپنے ملازمین کو اسلامی طرز کے اسکارف سمیت ہر اس شئے کے پہننے پر پابندی عائد کرسکتے ہیں جس سے کسی خاص مذہب یا سیاسی نظریات کا پرچار ہوتا ہو۔
منگل کو ای سی جے نے بلجیم سے تعلق رکھنے والی مسلم خاتون کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ دیا جنہیں سیکیورٹی کمپنی جی فور ایس سے محض اس لیے فارغ کر دیا تھا کیوں کہ انہوں نے اسکارف اتارنے سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ‘اگر کسی کمپنی میں اندرونی طور پر یہ قانون موجود ہو کہ کوئی بھی ملازم سیاسی، مذہبی یا فلسفیانہ خیالات کی علامت سمجھی جانے والی کوئی چیز نہیں پہنے گا تو اس سے کسی ایک فرقے یا مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک کا ارتکاب نہیں ہوتا’۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپین عدالت کے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے محض ‘امتیازی رویوں’ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
خیال رہے کہ مذہبی علامت سمجھے جانے والے لباس خاص طور پر اسلامی طرز کے اسکارف یورپ بھر میں قوم پرست اور مسلم مخالف جماعتوں کے منظر عام پر آنے کے بعد سے موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ یورپی ملک آسٹریا عوامی مقامات پر نقاب پر مکمل پابندی کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ گزشتہ برس فرانس میں مقامی حکام نے مسلم خواتین کی جانب سے سوئمنگ کے دوران استعمال کی جانے والی برقینی پر بھی پابندی عائد کر دی تھی اور مسلم خواتین کو جرمانے بھی کیے تھے۔
یورپین پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت یورپین پیپلز پارٹی کے سربراہ مینفریڈ ویبر نے یورپی عدالت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کہ یہ فیصلہ یورپی اقدار کی فتح کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ بلجیم کی مسلم خاتون سمیرہ نے 2003 میں سیکیورٹی کمپنی جی فور ایس میں بطور ریسپشنسٹ ملازمت اختیار کی تھی اور اس وقت کمپنی میں مذہبی علامت سمجھے جانے والے لباس پر پابندی کا تحریری طور پر کوئی قانون نہیں تھا۔ تاہم 2006 میں کمپنی نے تحریری طور پر مسلم طرز کے اسکارف پر پابندی عائد کردی تھی اور اسکارف پہننے پر سمیرہ کو نوکری سے نکال دیا تھا جس کے بعد سمیرہ نے کمپنی پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے یورپین عدالت سے رجوع کیا تھا۔

اردو ٹائمز

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago